ابنا: علی اصغر سلطانیہ نے بدھ کے روز یوکیا امانو کی رپورٹ کے بارے میں ویانا میں ایٹمی ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں مختلف ملکوں کے سفیروں کی موجودگی میں بعض فنی اور تکنیکی سوالات کے بارے میں وضاحتیں پیش کیں۔ علی اصغر سلطانیہ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ آئي اے ای اے اور ایران اپنا تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعاون جاری رکھیں۔
بورڈ آف گورنرز کا اجلاس پیر کے روز سے شروع ہو رہا ہے۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بورڈ آف گورنرز کو پیش کی گئي اپنی تازہ رپورٹ میں گزشتہ رپورٹوں کی نسبت زیادہ مثبت نکات پیش کیے ہیں لیکن اس کے باوجود مغرب کی سیاسی و صحافتی حلقوں نے اس رپورٹ کے بعض حصوں پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے کہ جن میں یا دو پہلو کے حامل نکات یا ایران یورینیم کی افزودگی کی شرح سمیت مبہم جملے موجود ہیں۔
ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو نے تیئیس مئی کو بغداد میں ہونے والے مذاکرات سے دو روز قبل تہران کا دورہ کیا تھا اور ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ تعاون کے بارے میں مذاکرات کیے تھے۔ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی نے بھی یوکیا امانو کے ساتھ ملاقات کو مثبت اور مفید قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یوکیا امانو کے ساتھ ملاقات میں ایٹمی ہتھیاروں کے ختم کرنے اور ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال پر زور دیا گيا ہے۔
یوکیا امانو کے دورۂ تہران کے بعد ایران اور گروپ پانچ جمع کے درمیان جامع مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہوا۔ ان مذاکرات کو بھی استنبول مذاکرات کی مانند دونوں فریقوں نے تعمیری اور مثبت قرار دیا لیکن مذاکرات ناتمام رہے اور اس بات پر اتفاق کیا گيا کہ ماسکو اجلاس میں ان مذاکرات کو جاری رکھا جائے گا۔ اس کے باوجود ایسا نظر آتا ہے کہ بعض قوتیں ایران اور آئی اے ای اے کے روایتی تعاون کو کم اثر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس وقت ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران ایٹمی فیول سائیکل میں خود کفیل ہو چکا ہے اور ایران میں بوشہر میں واقع پہلے ایٹمی بجلی گھر نے بھی گزشتہ سال اگست کے مہینے سے آزمائشی طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ ایران بوشہر میں دوسرے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کا کام آئندہ سال شروع کرے گا جس میں ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہو گی۔ اس کے علاوہ تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر میں طبی استعمال کے لیے ریڈیو آئسوٹوپس بھی بنائے جا رہے ہیں کہ جس کا ایندھن مقامی طور پر تیار کیا گيا ہے۔
لہذا فنی اور تکنیکی بحثوں کے دائرے میں بلاشتہ ایران کے اقدامات ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے قوانین کے مطابق ہیں اور ایران ممکنہ مسائل کو سنجیدہ طریقے سے کسی بھی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تیار ہے اور اس نے استنبول اور بغداد مذاکرات کے درمیانی عرصے میں نیک نیتی کے ساتھ دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے قدم اٹھائے اور اب مقابل فریق کو چاہیے کہ وہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات انجام دے۔
بلاشبہ مقابل فریق کی جانب سے اپنے رویے میں تبدیلی اور غیر قانونی بائیکاٹ اور سیاسی دباؤ کے بجائے تعاون کی پالیسی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مؤثر واقع ہو سکتی ہے اور آئي اے ای اے میں ایرانی نمائندے نے جو بعض ممالک سے کہا ہے کہ وہ ایران اور ایجنسی کے درمیان تعاون کی فضا کو خراب نہ کریں، وہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ .......
/169